علی گڑھ 5مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں محمد علی جناح کے بعد اب یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کی تصویر کو لے کر تنازعہ ہو گیا ہے ۔ جمعہ کے روز خیر قصبہ میں موجود پی ڈبلیو ڈی کے گیسٹ ہاوس میں سرسید احمد خاں کی تصویر ہٹا دی گئی ۔ جس کےبعد طلبہ نے ہفتہ کے روز ہنگامہ آرائی کی ۔ اس درمیان ایک فوٹوگرافر کے ساتھ طلبہ کی مبینہ مارپیٹ کی خبریں آ رہی ہیں۔
پی ڈبلیو ڈی کے گیسٹ ہاوس میں سرسید احمد خاں کی تصویر کیوں ہٹائی گئی ، فی الحال اس معاملہ کی پوری معلومات نہیں مل پائی ہے ۔ ملی معلومات کے مطابق ، کیمپس میں ہنگامہ کر رہے طلبہ نے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی بھی کی ہے ۔ اس درمیان طلبہ یونین جناح کی تصویر کو نہیں ہٹانے کے موقف پر قائم ہے۔ ہنگامہ کے مد نظر کیمپس میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہے ۔
دوسری جانب آل انڈیا مسلم مہا سنگھ کے قومی صدر فرحت علی خان نے کیمپس میں جناح کی تصویروں کو ہٹانے اور انہیں جلانے کے لئے انعام کا اعلان کیا ہے۔ فرحت نے کہا ’’ میں اعلان کرتا ہوں کہ جناح اور ایسے لوگوں کی فوٹو پھاڑ دیں یا جلا دیں ، جو ایسا کرے گا اسے ایک لاکھ روپیے کا انعام ملےگا ‘‘۔
دراصل ، کیمپس میں تنازعہ کی شروعات بی جے پی رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم کی جانب سے وائس چانسلر کو لکھے ایک خط سے ہوئی ۔ ستیش نے لکھا کہ انہیں پتہ چلا کہ یونیورسٹی کے یونین ہال می جناح کی تصویر لگی ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس نے ملک کو تقسیم کرایا اس کی تصویر یونیورسٹی میں لگی ہو ۔ اسے لے کر ہندوتنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا ۔ جناح کا پتلا جلایا گیا ۔ طلبہ یونین کے ممبران اور ہندو تنظیموں کے کارکنان کے درمیان اس معاملہ میں جھڑپ بھی ہوئی ۔